افغان حکومت کے خلاف سازشیں — ایک نئے دور کی آزمائش
( اس وقت افغان قیادت کے سامنے دو راستے ہیں:
- یا تو وہ بیرونی دباؤ کے آگے جھک جائے اور اپنی خودمختاری کی قیمت پر وقتی سکون حاصل کرے،
- یا پھر ثابت قدم رہ کر اپنے عوام کے اعتماد پر قائم رہتے ہوئے ایک خوددار اسلامی ریاست کی بنیاد مضبوط کرے۔)
افغانستان کی موجودہ حکومت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ خارجی دباؤ بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اور خطے کے بعض ممالک، جنہیں ایک آزاد اور خودمختار افغانستان قبول نہیں، مختلف شکلوں میں اس کے خلاف سازشیں بُن رہے ہیں۔ کبھی معاشی دباؤ کے ذریعے، کبھی سفارتی تنہائی پیدا کر کے، اور کبھی میڈیا کے ذریعے منفی تاثر پھیلا کر، افغانستان کے نئے نظام کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ افغان قیادت نسبتاً نئی اور تجربے میں کم عمر ہے۔ کئی دہائیوں کی جنگ اور انتشار کے بعد پہلی مرتبہ انہیں عالمی سفارت کاری، معیشت، اور ریاستی نظم و نسق کے پیچیدہ معاملات سے براہِ راست واسطہ پڑا ہے۔ ابھی وہ یہ سیکھنے کے مرحلے میں ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات کس طرح چلائے جاتے ہیں، کب نرمی دکھانی ہے اور کب اپنی خودمختاری پر ڈٹ جانا ہے۔
دنیا کے طاقتور ممالک افغانستان سے صرف اپنے مفادات کے زاویے سے بات کرتے ہیں۔ انہیں افغان عوام کے دکھ درد سے زیادہ اپنے سیاسی و معاشی مقاصد عزیز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے خلاف ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں جو بظاہر ’’انسانی حقوق‘‘ یا ’’عورتوں کی آزادی‘‘ کے نام پر ہیں، مگر درحقیقت ان کا مقصد افغان حکومت کو دباؤ میں لانا اور اپنی شرائط منوانا ہے۔
افغان حکومت کے لیے سب سے بڑی ضرورت دانشمندانہ خارجہ پالیسی ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مسکراہٹ دوستی کی علامت نہیں ہوتی، اور ہر امداد خیر خواہی کے جذبے سے نہیں دی جاتی۔
اس وقت افغان قیادت کے سامنے دو راستے ہیں:
- یا تو وہ بیرونی دباؤ کے آگے جھک جائے اور اپنی خودمختاری کی قیمت پر وقتی سکون حاصل کرے،
- یا پھر ثابت قدم رہ کر اپنے عوام کے اعتماد پر قائم رہتے ہوئے ایک خوددار اسلامی ریاست کی بنیاد مضبوط کرے۔
افغان عوام نے پچھلی دو دہائیوں میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ وہ اب امن چاہتے ہیں، عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، اور اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی امیدیں موجودہ حکومت سے وابستہ ہیں۔
یہ وقت افغانستان کے لیے ایک امتحان ہے — لیکن اگر افغان قیادت نے بصیرت، اتحاد، اور حکمتِ عملی سے کام لیا تو یہی بحران ان کے لیے استحکام اور عزت کا سنگِ میل بن سکتا ہے۔
تحریر: محمد معاذ حارون
