بچوں کو طوطے کی طرح الفاظ رٹوا تو دیے جاتے ہیں

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور انسانیت کے لیے ہدایت کا دائمی سرچشمہ ہے۔ ہمارے مسلم معاشرے میں بچوں کو ناظرہ قرآن کریم پڑھانے اور حفظ کروانے کا رجحان تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے، لیکن موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف برکت اور ثواب کی کتاب سمجھ لیا ہے۔ بچوں کو طوطے کی طرح الفاظ رٹوا تو دیے جاتے ہیں، مگر ان کے مفہوم، گہرائی اور اصل پیغام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پڑھنے کے باوجود ہماری نئی نسل عملی زندگی میں اس کے اثرات سے محروم نظر آتی ہے۔ بچوں کے دلوں میں بچپن ہی سے فہمِ قرآن یعنی قرآن کو گہری سمجھ کے ساتھ پڑھنے کا شوق پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
بچپن کا دور انسانی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جب ذہن بالکل صاف اور کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ اس عمر میں جو بھی نقش بٹھا دیا جائے، وہ پتھر پر لکیر کی طرح قائم رہتا ہے۔ اگر ہم بچوں کو صرف الفاظ کی ادائیگی کے بجائے قرآنی آیات کا پس منظر اور ان کا آسان ترجمہ سکھانا شروع کر دیں، تو اس کے نتائج حیرت انگیز ہوں گے۔ اس طرزِ تعلیم سے بچوں کا اپنے خالق پر ایمان اندھا دھند نہیں رہتا، بلکہ وہ دلیل اور محبت پر قائم ہوتا ہے۔ ان کے اندر سچائی، دیانت داری اور خلقِ خدا سے ہمدردی جیسے اخلاقی اوصاف کسی بوجھ کے بغیر، خود بخود پیدا ہونے لگتے ہیں اور وہ زندگی کے ہر موڑ پر قرآن سے رہنمائی لینے کے عادی بن جاتے ہیں۔
بچوں کو فہمِ قرآن کی طرف راغب کرنے کے لیے روایتی اور خشک طریقوں کے بجائے کچھ عملی اور دلچسپ اسلوب اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بہترین ذریعہ ‘قصص القرآن’ یعنی قرآنی کہانیاں ہیں۔ بچے فطرتی طور پر کہانیاں سننے کے شوقین ہوتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں انبیاء کرام کے واقعات اور قدیم اقوام کے عروج و زوال کے اتنے سبق آموز قصے موجود ہیں کہ اگر انہیں بچوں کی زبان میں سنایا جائے، تو وہ نہ صرف محفوظ ہوں گے بلکہ ان کے اندر خیر اور شر کا فرق سمجھنے کی صلاحیت بھی بیدار ہوگی۔ کہانی کے اختتام پر بچوں سے خود بات چیت کی جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس واقعے سے کیا سبق سیکھا۔
اس سفر کا آغاز قرآنِ مجید کے آخری پارے کی چھوٹی سورتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ سورتیں نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ اگر بچوں کو سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص یا سورہ عصر جیسی سورتوں کا لفظ بہ لفظ آسان ترجمہ اور مختصر تشریح سکھا دی جائے، تو نماز پڑھتے وقت ان کا دھیان ادھر ادھر نہیں بھٹکے گا۔ انہیں یہ احساس ہوگا کہ وہ نماز کی حالت میں اپنے رب سے کیا گفتگو کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، قرآن کی تعلیمات کو ان کی روزمرہ زندگی سے جوڑنا بھی لازم ہے۔ مثال کے طور پر، جب سورتوں میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ناپ تول میں کمی نہ کرنے یا تکبر سے بچنے کا ذکر آئے، تو بچوں کو ان کے اپنے رویوں اور گھر کے ماحول کی مثالیں دے کر بات سمجھائی جائے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو کبھی دبایا نہ جائے۔ بچے فطرتاً متجسس ہوتے ہیں اور دین یا خدا کے بارے میں ایسے سوالات پوچھ سکتے ہیں جو بظاہر عجیب لگیں۔ ایسے موقع پر انہیں ڈانٹنے یا خاموش کرانے کے بجائے ان کے تجسس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگر کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو، تو وقت لے کر کسی مستند کتاب یا عالم سے رجوع کریں اور پھر بچے کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی تسلی کریں۔ اس سے ان کے اندر تدبر اور سوچ بچار کا مادہ پیدا ہوگا، جسے خود قرآن نے بارہا سراہا ہے۔ کائنات کے مناظر، جیسے چاند، سورج، بارش اور درختوں کو دیکھ کر بچوں کو قرآنی آیات کا حوالہ دینا ان کے اندر گہرا فکری شعور پیدا کرتا ہے۔
آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں والدین خود روزانہ سمجھ کر قرآن پڑھتے ہوں اور ان کے اخلاق سے قرآنی تعلیمات جھلکتی ہوں، تو بچے کسی زبردستی کے بغیر اس راستے پر چل پڑیں گے۔ بچوں کے لیے ایسے اساتذہ کا انتخاب بھی ضروری ہے جو صرف سختی سے سبق یاد کروانے کے قائل نہ ہوں، بلکہ محبت، نرمی اور شفقت کے ساتھ دین کا نور بچوں کے دلوں میں منتقل کریں۔ بچوں کو قرآن کا گہرا فہم دینا ایک صبر طلب کام ضرور ہے، لیکن یہی وہ بنیاد ہے جو انہیں دنیا اور آخرت میں ایک بہترین انسان اور سچا مسلمان بنا سکتی ہے۔

Join the ConversationLeave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment*

Name*

Website