مال کی کیا قیمت ہے اگر تم اُس کے خادم بن جاؤ

( اموالکم فتنۃ )

مال کی کیا قیمت ہے اگر تم اُس کے خادم بن جاؤ بجائے اِس کے کہ تم اُس کے آقا بنو؟

مال کی کیا قیمت ہے اگر وہ تمہارے دین کی قیمت پر ہو؟ مال کی کیا قیمت ہے اگر اُس کی راہ میں تمہاری عزت پامال ہو اور تمہاری آبرو تار تار ہو جائے؟ مال کی کیا قیمت ہے اگر تم فقیروں کی سی زندگی گزارو مگر امیروں کا سا حساب دینا پڑے؟

مال کی کیا قدر ہے اگر اللہ اُس کا تم پر اثر نہ دیکھے؟ اُس کی کیا قیمت ہے اگر اُس سے تم کسی یتیم کو خوش نہ کر سکو، اور کسی اولاد کی زندگی آسان نہ کر سکو؟ اُس کی کیا قیمت ہے اگر اُس سے تم کسی دوست کی ضرورت پوری نہ کر سکو، یا کسی محتاج کا دل نہ جوڑ سکو؟

اُس کی کیا قیمت ہے اگر اُس میں کسی فقیر کا حصہ نہ ہو، اور کسی مقروض کو اُس سے تسلی نہ ملے؟ اُس کی کیا قیمت ہے اگر اُس میں کسی مریض کے لیے دوا کا ایک ڈبہ نہ ہو، اور کسی بیوہ کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ ہو؟ اُس کی کیا قیمت ہے اگر اُس میں کسی مجاہد کے لیے سہارا نہ ہو، مسجد کے لیے ایک اینٹ نہ ہو؟

تم اُتنے ہی بلند ہوتے ہو جتنا مال تمہارے قدموں کے نیچے ہو، اور اُتنے ہی پست ہوتے ہو جتنا مال تمہارے سر کے اوپر ہو۔

مفتی معاذ ھارون

Join the ConversationLeave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment*

Name*

Website