بچے کو بیماری کیوں ہوتی ہے؟ ملحد کے سوال پر مفتی معاذ ہارون کا جواب
کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر بچے معصوم ہیں، ان پر کوئی فرض نہیں، اور وہ گناہگار بھی نہیں، تو انہیں بیماریاں اور تکلیفیں کیوں آتی ہیں؟ ایک ملحد نے یہی سوال اٹھایا ہے کہ “یہ تو ظلم ہوا!” لیکن مفتی معاذ ہارون نے اس کا ایک بہترین اور آسان جواب دیا ہے۔
## ملحد کا سوال: “معصوم بچے کو تکلیف کیوں؟ یہ تو ظلم ہے!”
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر بچہ معصوم ہے اور اس نے کوئی گناہ نہیں کیا، تو اسے بیماریاں اور دکھ کیوں ملتے ہیں؟ کچھ لوگ اسے ظلم سمجھتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کا جواب کیا ہے۔
## مفتی معاذ ہارون کا عقلی جواب – پانچ اہم باتیں
یہاں پانچ ایسی اہم باتیں بتائی گئی ہیں جو اس مشکل سوال کا آسان حل پیش کرتی ہیں:
### 1. ہر تکلیف سزا نہیں ہوتی
یہ سوچنا کہ *ہر تکلیف ایک سزا ہے*، یہ ایک بنیادی غلط فہمی ہے۔
* **مثال کے طور پر:**
* جب کسی کا آپریشن ہوتا ہے تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔
* بچوں کو ویکسین لگاتے وقت درد ہوتا ہے۔
کیا ہم ڈاکٹر کو ظالم کہتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ ان کا مقصد نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ فائدہ دینا ہوتا ہے۔
**یاد رکھیں: تکلیف کا ہونا ہرگز ظلم کا ہونا نہیں ہے۔**
### 2. سزا ہمیشہ کسی جرم کے بدلے ہوتی ہے
سزا کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جرم کیا گیا ہو، اس کا ارادہ کیا گیا ہو، اور پھر اس کا حساب ہو۔
لیکن:
* بچہ نہ تو مکلف ہے (اس پر کوئی فرض نہیں)۔
* نہ ہی وہ مجرم ہے۔
* نہ ہی وہ کسی چیز کا ذمہ دار ہے۔
**اس لیے، بچے کی بیماری کو سزا کہنا بالکل غلط ہے۔ یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔**
### 3. اگر نقصان کا بدلہ ملے تو وہ ظلم نہیں ہوتا
فرض کر لیں کہ بچے کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ:
* کیا یہ تکلیف بے فائدہ ہے؟
* یا اس کے ساتھ کوئی بدلہ (Compensation) بھی ہے؟
اسلامی عقیدہ یہ کہتا ہے کہ بچوں کو جو تکلیف ملتی ہے، اس کے بدلے میں انہیں بہت کچھ ملتا ہے:
* بچے کے درجات اونچے ہوتے ہیں۔
* اسے بغیر حساب کے جنت ملتی ہے۔
* اگر بچہ فوت ہو جائے تو وہ اپنے والدین کی شفاعت (سفارش) بھی کرتا ہے۔
**عقلی طور پر: تھوڑی سی تکلیف + بہت بڑا فائدہ = یہ ظلم نہیں، بلکہ انصاف ہے۔**
### 4. اصل آزمائش بچے کی نہیں، والدین کی ہوتی ہے
جب بچہ بیمار ہوتا ہے، تو وہ تو کوئی سوال نہیں کرتا، نہ شکایت کرتا ہے، اور نہ ہی اللہ سے ناراض ہوتا ہے۔
لیکن والدین:
* یا تو صبر کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
* یا تو ایمان پر قائم رہتے ہیں یا شکوہ کرتے ہیں۔
**اس لیے، بچے کی بیماری دراصل والدین کا امتحان ہے، بچے کو سزا نہیں دی جا رہی۔**
یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک استاد سوال بچے سے پوچھے، لیکن نمبر والدین کے رویے پر لگ رہے ہوں۔
### 5. یہ دنیا نتائج کی نہیں، آزمائش کی جگہ ہے
اگر اس دنیا میں:
* ہر معصوم کو فوراً مکمل صحت مل جاتی۔
* اور ہر ظالم کو فوراً سزا مل جاتی۔
تو پھر:
* قیامت کا کوئی مطلب نہ رہتا۔
* حساب کتاب کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔
**اس لیے، دنیا میں بعض انصاف کے فیصلے آخرت کے لیے رکھے گئے ہیں۔**
## ملحدانہ سوچ کی کمزوری
ملحد کہتا ہے: “اگر دکھ ہے، تو خدا نہیں ہے۔”
لیکن ہم کہتے ہیں: “دکھ ہے، اسی لیے خدا کے بغیر کوئی نظام ممکن نہیں۔”
کیونکہ:
* دکھ کا احساس تب ہی ہوتا ہے جب انصاف کا کوئی معیار ہو۔
* اور انصاف کا یہ معیار صرف مادے سے پیدا نہیں ہوتا۔
## آخر میں کیا سمجھ آیا؟
اگر:
* تکلیف سزا نہیں ہے۔
* اور وہ بغیر بدلے کے نہیں ہے۔
* اور آزمائش کسی اور کی ہے۔
* اور انجام کار میں مکمل انصاف ہے۔
**تو نتیجہ یہ ہے کہ: معصوم بچے کی بیماری ظلم نہیں، بلکہ محدود دنیا میں ایک عادل اور رحیم نظام کا حصہ ہے۔*
۔اخری بات
“آپ ہر تکلیف کو سزا سمجھتے ہیں، ہم ہر سزا کو حساب سے جوڑتے ہیں— اور بچہ حساب کے دائرے میں ہی نہیں آتا۔”
