بہت سے لوگ مسجد کی نئی تعمیر کے دوران کچھ سوالات کرتے ہیں، خاص طور پر امام کے لیے رہائش اور بالغ لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں۔ آئیے ان اہم سوالات پر اسلامی رہنمائی دیکھتے ہیں۔
مسجد کا شرعی مقام: جو ایک بار مسجد، وہ ہمیشہ مسجد
اسلامی شریعت میں مسجد کا ایک بہت خاص اور مقدس مقام ہے۔
* ایک بار مسجد، ہمیشہ مسجد: جو جگہ ایک بار شرعی مسجد بن جائے، وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے، چاہے اس کی پرانی عمارت گر جائے یا اسے دوبارہ بنایا جائے۔* آسمان سے زمین تک: یہ اصول نہ صرف زمین کی سطح پر بلکہ آسمان سے لے کر زمین کی گہرائیوں تک ہر حصے پر لاگو ہوتا ہے۔ یعنی مسجد کی جگہ کے اوپر یا نیچے کوئی اور عمارت بنانا جائز نہیں۔
مسجد کے نیچے امام کا گھر: کیا یہ درست ہے؟
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرانی مسجد کو دوبارہ بناتے وقت، مسجد کے عین نیچے امام کے لیے گھر بنایا جا سکتا ہے؟
* ناجائز ہے: شرعی اصولوں کے مطابق، جس جگہ پر ایک بار مسجد بن چکی ہو، وہاں مسجد کے علاوہ کوئی اور عمارت، جیسے امام کے لیے گھر، بنانا جائز نہیں۔* وجہ: چونکہ مسجد کی پوری جگہ (اوپر سے نیچے تک) وقف ہوتی ہے اور اللہ کا گھر بن جاتی ہے، اس لیے وہاں ذاتی رہائش یا کوئی اور غیر مسجدی مقصد کے لیے عمارت بنانا درست نہیں۔
امام کا بیوی کے ساتھ رہنا اور بالغ لڑکیوں کی تعلیم
اگر امام کے لیے مسجد کے نیچے گھر بنانا ہی جائز نہیں، تو پھر وہاں امام کا اپنی بیوی کے ساتھ رہنا بھی جائز نہیں۔
* رہائش کا مسئلہ: امام کے لیے مناسب ہے کہ وہ مسجد سے باہر کسی اور جگہ رہائش کا انتظام کرے۔* بالغ لڑکیوں کی تعلیم: مسجد میں بالغ لڑکیوں کو پڑھانے یا پڑھنے کا انتظام بھی درست نہیں۔ ان کے لیے مسجد سے باہر کسی اور مناسب اور محفوظ جگہ کا انتظام کیا جانا چاہیے۔
اہم شرعی دلائل اور فقہی وضاحت
فتاوی شامی میں ہے :
“[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية.
[فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد].
(قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا بترك اهـ وبه علم أن قوله في النهر، وأما لو تمت المسجدية، ثم أراد هدم ذلك البناء فإنه لا يمكن من ذلك إلخ فيه نظر؛ لأنه ليس في عبارة التتارخانية ذكر الهدم وإن كان الظاهر أن الحكم كذلك (قوله: فإذا كان هذا في الواقف إلخ) من كلام البحر والإشارة إلى المنع من البناء (قوله: ولو على جدار المسجد) مع أنه لم يأخذ من هواء المسجد شيئا. اهـ. ط ونقل في البحر قبله ولا يوضع الجذع على جدار المسجد وإن كان من أوقافه. اهـ.
قلت: وبه حكم ما يصنعه بعض جيران المسجد من وضع جذوع على جداره فإنه لا يحل ولو دفع الأجرة (قوله: ولا أن يجعل إلخ) هذا ابتداء عبارة البزازية، والمراد بالمستغل أن يؤجر منه شيء لأجل عمارته وبالسكنى محلها وعبارة البزازية على ما في البحر، ولا مسكنا وقد رد في الفتح ما بحثه في الخلاصة من أنه لو احتاج المسجد إلى نفقة تؤجر قطعة منه بقدر ما ينفق عليه، بأنه غير صحيح. قلت: وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي، ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذير المسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه ورأيت تأليفا مستقلا في المنع من ذلك.”
(کتاب الوقف ،ج:۴،ص:۳۵۸،سعید)
فقط واللہ اعلم
